Wednesday, June 8, 2011

لائف بوائے اور تبت سنو کریم ۔۔۔۔ ایک آرٹیکل

 
لائف بوائے اور تبت سنو کریم

جب بھی کوئی کمپنی اپنی کسی پروڈکٹ کی مارکیٹنگ، ترسیل کرتی ہے اور اسے بازار میں لاتی ہے، تو اس کے لیے مبالغہ، بلا مبالغہ حربے بھی استعمال کرتی ہے۔ یقینا یہی نکتہ لائف بوائے سوپ اور تبت کریم کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہو گا۔ پر اسوقت ان کو ذرا سا بھی اندازہ نہیں ہو گا کہ یہ صابن، کریم آدھی سے بھی زیادہ صدی کی پروڈکٹ بننے والی ہیں۔ اور نسل در نسل چلنے والی ہیں۔ اور حقیقتا بھی جوڑی دار ہیں ورنہ ایک ہی کمپنی یہ دونوں بنا لیتی۔ پھر اشتہار کچھ یوں ہوتا کہ پہلے لائف بوائے سے نہائیے، پھر تبت کریم لگائیے اور اپنے حسن کو چار چاند لگائیے۔ ایک ہی سیلزمین سے دونوں کام ہو جاتے۔ اور کام شروع ہونے سے پہلے ہی بچت بھی شروع ہو جاتی۔

یہ دونوں پروڈکٹ سادگی کے زمانے کی پیداوار ہیں۔ میرا نہیں خیال کہ ان کو زیادہ مقابلے کی فضا سے بھی گزرنا پڑا ہو گا۔ بلکہ وہ مصطفے قریشی والی چائے کی طرح لائف بوائے ٹھاہ کر کے لوگوں کے سینے سے جا لگا ہو گا۔ کیونکہ کچھ روایتی لوگ ابھی بھی اسے سینے سے چمٹائے ہوئے ہیں۔ اور تبت کریم کو بھی اس زمانے کی حسیناؤں نے ہاتھوں ہاتھ لیا ہو گا اوراسکا مقابلہ بھی صرف پونڈ کریم سے ہی ہوا ہو گا۔ پھر بھی یہ اپنی جگہ بنانے میں کامیاب رہی۔ میں نے جب ہوش سنبھالا تو دیکھا نانا، دادا کی زندگی میں لائف بوائے اور نانی، دادی کی زندگی میں تبت کریم ہلچل مچا چکی تھی۔ میں نے دیکھا تھا کہ لائف بوائے سے سب بزرگ خوش ہو کر نہاتے تھے۔ اور سب اسے نہانے کا صابن کہتے تھے۔ دراصل یہ باقی لوگوں کو تنبیہہ ہوتی تھی کہ کہیں کوئی اس سے کپڑے نہ دھو لے۔

ویسے یہ اپنے آپ میں مردوں کا صابن تھا جیسا کہ نام سے ظاہر ہے لائف بوائے تو لگتا کہ شائد اس سے نہا کر ایک لڑکے کی لائف بن جائے گی۔ لیکن اس سے تو باجماعت پوری فیملی نہا لیا کرتی تھی۔ کیونکہ تب شائد لوگوں کی اصطلاح بھی بڑی مخصوص تھی۔ نہانے کا صابن اور کپڑے دھونے کا صابن کہہ کر بات ختم ہوجاتی۔ میں نے جب لائف بوائے صابن کا بغورجائزہ لیا تو اس کا رنگ نہ تو لال تھا اور نہ ہی گلابی۔ بلکہ تربوز کے رنگ سے میچ کر کے اسے ظاہری شکل دی گئی تھی۔ سو یہ ہلکے تربوزی رنگ کا لگتا تھا۔ کیونکہ چھوٹے بچے اسے منہ میں ڈٓالنے اور چوسنے کی کوشش کرتے تھے۔ پھر لائف بوائے سونگھنے سے اسکے پرستاروں کو خوشبو آتی تھی اور باقی لوگوں کو بو، لیکن اس کا ایور گرین فائدہ مجھے بعد میں پتہ چلا۔ جبکہ اب تو صابن کم اور نئے جدید لوازمات کافی ہیں۔ میں نے کچھ کرم فرماؤں کو زمانے کے تغیراور بےشمار رنگ برنگی ایجادات کے باوجود پھر بھی اس سے مسلسل جڑنا دیکھا تو شکوہ کرہی دیا۔ اور مجھے جواب ملا کہ یہ صابن گھلتا کم ہے اس لیے خرچ کم ہوتا ہے۔ مہمان کو تو خاص طور پر یہی صابن دیا جاتا ہے۔ آخر اسے اتنی فضول خرچی کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے۔ یہ جان کر جو میرے من میں پھلجھڑی چھوٹی تو بیان سے باہر ہے۔ کیونکہ لائف بوائے واقعی ایک ڈھیٹ قسم کا صابن ہے جس سے جھاگ کم بنتا ہے۔

زاویہ کتاب پڑھ کے پتہ چلا کہ اپنے میرا مطلب آپ سب کے رائیٹراشفاق احمد کا یہ پسندیدہ صابن تھا اور وہ بھی اس کے فین تھے کیونکہ انھیں بھی اس سے خوشبو آتی تھی۔ اس زمانے میں یقینا بڑے لوگ اور اداکار کسی بھی کمپنی پروڈکٹ کی مارکیٹنگ نہیں کرتے تھے کہ لوگ کیا کہیں گے۔ ورنہ اشفاق احمد بھی لائف بوائے کے ساتھ اپنا ایک ایڈ بنوا لیتے۔

ادھر تبت کریم بھی بڑے آرام سکون سے اپنی جگہ بنا چکی تھی۔ یہ کریم عورتوں کی زندگی میں شامل تھی۔ اسے ہی لگائے جاؤ لگائے جاؤ، ختم ہو جائے تو جا کر جام جم کی طرح اور لے آؤ۔ اس کی گول شیشی ایک ایسی پیکنگ میں ہوتی تھی۔ جس کی ایک سائیڈ ایک عورت کا چہرہ دکھائی پڑتا تھا اور دوسری طرف ایک پہاڑاور خوبصورت مقام کا منظر تھا۔ جواس وقت مجھ نادان کی سمجھ سے باہر تھا۔ شائد اس کا مطلب یہ ہوتا ہو گا کہ پہلے عورت تبت کریم لگائے اور پھر تبت کے پہاڑوں میں چلی جائے۔ ویسے کریم کا رنگ بذات خود بڑا چٹا تھا۔ اور اس میں اک چمک بھی نظر آتی تھی۔ اور سب عورتیں ایک تو بالوں میں پف شوق سے بنایا کرتیں پھر تبت کریم لگا کر ان کا میک اپ مکمل ہو جاتا۔ اور وہ ریلیکس ہو جاتیں کہ اب چاہے کوئی اچانک کا مہمان چھاپہ مار لے یا مجازی خدا کام سے گھر آ جائے۔

تب کہاں خبر ہو گی،
کہ اسکن کتنے ٹائپ کی ہوتی ہے۔ اور اس کے حساب سے کریم تیار کی جائے اور صارفین تک پہنچائی جائے۔ جو بنا دیا اسے سیل کے لیے مارکیٹ پہنچا دیا اور صارفین بیچارے تو مظلوم اور ان کمپنیوں کے ویسے ہی محتاج، لہذا میں کبھی کبھی سوچ کر مسکرا دیتی ہوں کہ تبت کریم اصل میں ایک نرشنگ کریم تھی۔ جو ظاہر ہے کہ اسکن کو غذائیت تو دیتی ہو گی مگرنرشنگ کریم لگانے سے جلد میں کچھ کھنچاؤ سا پیدا ہو جاتا ہے۔ سو کچھ عورتوں کی خشک جلد کے لیے یہ بالکل بھی مناسب نہ تھی۔ لیکن ان کے پاس اسکا متبادل بھی نہ تھا۔ اور اسکن پر کھنچاو محسوس کر کے وہ بیچاری یقینا مزید کریم استعمال کر لیتی ہوں گی۔ بہرحال پھر بھی اسے لگا کر ایک عورت اپنے آپ کو اس پیکنگ والی حسینہ جتنا ہی خوبصورت محسوس کرتی ہو گی۔ تب عورتیں بغیر آئینے میں دیکھے چہرے پر کریم مل مل کر فارغ ہو جاتی تھیں۔ کہ اب اسکن جانے یا کریم،

جبکہ آجکل کسی لڑکی کے چہرے پر ایک پمپل بھی نکل آئے تو فکر سے اسکی جان جل جاتی ہے۔ ٹماٹر، چاکلیٹ کھانے بند کر دئیے جاتے ہیں، دس لوگوں کو بتا کر اپنی پریشانی شیئر کی جاتی ہے۔ بار بار آئینے میں اس پمپل کا دیدار کیا جاتا ہے۔ اور جب تک وہ چلا نہ جائے اپنی اسکن کو ہی اچھوت کی طرح ہاتھ لگایا جاتا ہے۔ ورنہ پہلے عورتیں اول تو گورے ہونے کے چکر میں لائف بوائے سے مل مل کرمنہ دھوتی تھیں اور دن میں کئی کئی بار یہ عمل کرتی تھیں۔ پھر رہی سہی کسر مل مل کر لگائی کریم سے پورا کر لیتی تھیں۔

اب اپنے آپ میں یہ دونوں پروڈکٹ جو بھی کمال رکھتی ہوں۔ لیکن ان کا اتنے سالوں سے اپنا وجود اپنی بقا رکھنا حیرت انگیز ہے۔ دنیا میں لوگ آتے ہیں چلے جاتے ہیں۔ چیزیں بھی آنی جانی چیز ہیں۔ ایک مارکیٹ سے غائب ہوتی ہے تو اس کی جگہ دس آ جاتی ہیں۔ لیکن آدھی پونی صدی سے شروع ان دونوں کا سفر آج بھی جاری ہے۔ جو ایک ہی سمت میں کیا گیا ہے۔ ورنہ اپنی بنائی ایک ہی پروڈکٹ کو کمپنی کچھ عرصے بعد خود ہی دیکھ دیکھ کر بور ہو جاتی ہے تو اس میں کچھ نیا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ زیادہ نہیں تو اس کی پیکنگ ہی ذرا تبدیل کر کے صارفین کے لیے جاذب نظر بنا دیتی ہے۔ مگر لائف بوائے اور تبت کریم بہت عرصے تک ایک ہی پیراہن استعمال کرتے رہے ہیں۔ پھر بھی انھوں نے اپنا نام گمنام نہیں ہونے دیا۔ بلے بھئ بلے، زمانے کی ہوا اور وقت کی اڑان سے اتنا ضرور ہوا ہے کہ پچھلے دنوں میں نے ٹی وی پر تبت کریم بنانے والی کمپنی کی اب کچھ اور پروڈکٹس بھی دیکھی ہیں۔
سو لاتعداد شمپوز، باڈی واش، باڈی لوشن کے استعمال کرنے والوں کے درمیان یقینا کہیں نہ کہیں ایسے مہربان ضرور موجود ہوں گے جو ان لوازمات کے بالمقابل یہی دو چیزیں استعمال کر کے راحت پاتے ہوں گے۔ تو کوئی حرج نہیں۔ شوق سے اپنے دل کی خواہش پوری کیجیے کیونکہ اب لائف بوائے اور تبت کریم تو ویسے بھی روایتی انداز میں زندگی میں شامل رہیں گے۔

کائنات بشیر
*******

Tuesday, March 22, 2011

نام اک پہچان


 
 
 

میرا یہ آرٹیکل حال ہی میں اردو پوائنٹ پر پبلش ہوا ہے۔ آپ بھی پڑھیے اور اپنی رائے سے نوازئیے۔

Saturday, August 28, 2010

ڈاکیا ڈاک لایا ۔۔۔۔۔ از کائنات بشیر

ڈاکیا ڈاک لایا
 
ڈاک کا سلسلہ کب شروع ہوا ہو گا ؟
شائد جب انسان کو دوسروں کی مدد کی ضرورت محسوس ہوئی ہو گی۔ زمانہ تو ایڈوانس نہیں ہوا تھا مگر ضروریات بڑھنی شروع ہو گئی تھیں۔ تو سب سے پہلے انسان نے پیغام رسائی کے لیےاپنی طرف ہی دیکھا کہ اپنے کام خود جو کرنے۔۔۔ پتوں کا لباس بنانے سے لے کرغاروں میں رہنے، اپنا شکار تلاش کرنے اور جنگل میں منگل منانے تک کی عادت جو تھی۔ اس وقت یہ پیغام بے زبانی ہوا کرتا تھا جسے ٹارزن تک اس کے ساتھی اڑتے پھدکتے جا کر پہنچایا کرتے تھے۔ پھر اس پیغام کو زباں مل گئی۔ کاغذ قلم کا دور تو تھا نہیں۔ اس لیے اونٹ یا گھوڑے پر ایک آدمی زبانی یہ پیغام لے جایا کرتا۔ دیکھا جائے پیغام تو مختصر ایک ہی ہوتا تھا مگر دو نفوس لے جا رہے ہوتے تھے۔ کیا عجب اس کا متن اتنا بھاری ہو۔

اس کے بعد بادشاہوں کا دور آیا، تبھی ایلچی اور قاصد عمل میں آئے۔ اور بعض دفعہ یہ وفد کی صورت دربار میں حاضر ہوتے۔ اور انھی کے ذریعے بادشاہ اپنے ملک میں بیٹھے بیٹھے دوسرے ملک کے بادشاہ کو اپنا موڈ دکھا دیا کرتے تھے۔ اگر خوش ہوتے تو خوامخواہ تحفے تحائف بھیج دیتے۔ غصے کے موڈ میں ہوتے تو دوسرے بادشاہ کو جنگ کی وارننگ بھیج دیتے تڑی لگا دیتے۔

البتہ کہانیوں کے شہزادے شہزادیوں کے دور میں کسی کو کبوتر کے پنجے سے خط باندھ کر بھیجنے کا نادر آئیڈیا آیا ۔ کیونکہ یہ شہزادہ ، شہزادی ہل کر پانی تک تو پیتے نہیں تھے مگر کبوتروں کو دانہ خود کھلایا کرتے تھے۔ حالانکہ یہ کام بھی تو وہ کنیز، غلام سے کروا سکتے تھے۔ یا پھر یہ انوکھا طریقہ کسی عاشق کی ایجاد ہو گا۔ جو قید خانے میں مقید ہو گا۔ وقت بھی تھا فراغت بھی۔ غم بھرا گیت گاتے ڈبڈباتی نظروں سے آسمان کو تکتے تکتے کبوتر نظر کے حصار میں آیا ہو گا۔ تو ساتھ ہی یہ نسخہ بھی۔ ویسے شکر ہے یہ پیغام رساں دیکھنے میں بھلا تو معلوم ہوتا ہو گا۔ کہیں کوے کو اس کام کے لیے منتخب نہیں کر لیا۔

جب خط لے جانے کے لیے کبوتر ایلچی دریافت ہو گیا تو تب چھٹی لکھنے کی نوبت آئی۔ پھر یہ درد بھری چٹھی ایک ۔۔۔ خوبصورت پر۔۔۔ سے لکھی جانے لگی۔ ویسے یہ خاص قلم بھی جب کسی اہم موقعے پر دستیاب نہ ہو سکا۔ تو انگلی سے بھی یہ پریم پتر لکھا گیا۔ اور دو چار جذبات بھرے آنسو بھی اس پر گرا دئیے گئے۔

پھر یہ کبوتر فیشن سالہا سال بلکہ نسل در نسل چلا۔ پر وقت کے ساتھ شائد اس پرواز میں بھی کوتاہی آنے لگی۔ تبھی تو سلمان خان۔۔۔ میں نے پیار کیا۔۔۔ فلم میں کبوتر کی منتیں واسطے کر رہے تھے، کبوتر جا جا جا کبوتر جا ۔۔۔ اور موڈی کبوتر اڑ کر کبھی اس کے ہاتھ اور کبھی دیوار پر جا کر بیٹھ جاتا تھا۔

اب آگے نہ تو جنگلوں کا دور رہا نہ بادشاہوں کا۔ پہلے جو خط پیغام کا سلسلہ مجبوری ضرورت میں کیا جاتا تھا۔ اب اسے شوق اور خوبصورتی سے کیا جانے لگا۔ چمکتے گولڈن قلم دستیاب ہو گئے اور خوبصورت رائیٹنگ پیڈز۔ اب باقاعدہ ڈاک خانے بھی بن گئے۔ ڈاک لانے لیجانے والے نے بھی اپنے کو بخوشی ڈاکیا کہلوایا۔ اور اس ڈاکیا کو فلموں میں بھی بڑا اہم رول ملا اور لوگوں کی زندگیوں میں جھانکنے کا موقع مل گیا۔ جو کبھی تو ان کے لیے خوشی کا پیام لے جاتا اور کبھی غم کا سندیسہ۔ کبھی اس کی چٹھیاں ہیرو ہیروئن کو ملوا دیتیں اور کبھی دیر سے ملنے پر انھیں جدا کر دیتیں۔ اور کبھی کوئی وصیت چٹھی شارٹ کٹ کے ذریعے غریب کو امیر بنا دیتی۔

یہ سلسلہ بڑی کامیابی سے چلا۔ اب چٹھی کے انتظار کے ساتھ ساتھ ڈاکیے کا بھی انتظار رہنے لگا۔
یہ دور ڈاکیے کا دور تھا جس میں اسے صرف ایک چیلنج کا سامنا تھا یعنی تار کا ۔۔۔۔ لیکن یہ آپشن اتنا فکر والا نہ تھا جو ڈاکیا کی جگہ لے لیتا۔ کیونکہ ایک تو تار دینا مہنگا پڑتا۔ لفظوں کی گنتی کے حساب سے رقم کی ادائیگی ہوتی۔ دوسرا تار عموما کسی بری خبر کا تاثر دیتا۔۔۔ سو جن کو تار ملتا ان کی آنکھوں کے آگے اندھیرا سا چھا جاتا، دل کانپنے لگتا اور یااللہ خیر کا ورد شروع ہو جاتا۔ کیونکہ تار میں عموما یا تو کسی کی بیماری آخری حد کو پہنچی ہوتی یا کوئی اس جہان فانی کو چھوڑ چکا ہوتا۔ سو یہ ڈاکیا کی جگہ کبھی نہیں لے سکا۔

بہت سالوں کوئی نیا طریقہ دستیاب نہ ہونے پر یہ سلسلہ کامیابی سے جاری رہا۔ پر اب کچھ سالوں پہلے وقت اور زمانے نے ایک لمبی چھلانگ لگا دی ہے۔ اور جب سے انٹرنیٹ اور موبائیل نے لوگوں کی زندگی میں جگہ بنا لی ہے تو یہ کاروبار کچھ مندا پڑ گیا ہے۔ اب خط کی جگہ میسج نے لے لی ہے اور لوگ موبائیل ہاتھ میں لے کر میسج کر کے خود ہی ڈاکیا بن گے ہیں، اور انٹرنیٹ کے ذریعے ای میل کر کے ڈاکیے کی راہ دیکھنا بند کر گئے ہیں۔ اور ہنگ لگا نہ پھٹکڑی اب قلم دوات، رائیٹنگ پیڈ، ڈاک ٹکٹ وقت سب کی بچت ہو گئی ہے۔ تو اب ڈاکیے کی بھی اہمیت کچھ سمٹ گئی ہے۔ اس کی ذمہ داری کی نوعیت کچھ بدل گئی ہے۔ کہہ سکتے ہیں اب لوگوں کی نجی زندگی میں ڈاکیا کی جذباتی ذمہ داری کم ہو گئی ہے مگر پریکٹیکل لائف میں ابھی اس کی ضرورت ہے۔

پر اب کہاں وہ زمانے رہے جب ہیروئن ایک چھٹی آنے پر پہلے اسے چومتی تھی۔ پھر سینے سے لگاتی تھی، اور ایک پیارا بھرا گانا گا کر

میرے محبوب کا خط آج میرے نام آیا
دل کو تسکین ملی روح کو آرام آیا

پھر خط کھولتی تھی۔۔۔



*********

Friday, August 13, 2010

یوں دی ہمیں آزادی

میرا یہ آرٹیکل چودہ اگست کو اردو پوائنٹ پر بھی پبلش ہو چکا ہے،
 
یوم آزادی
 
یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران
اے قائد اعظم ترا احسان ہے احسان

بچپن میں جب بھی کبھی یہ ترانہ سنا تو دل اک عقیدت، جوش اور جذبے سے معمور ہو جاتا تھا اور اپنی پہچان اپنے وطن پر اک فخر اور غرور سا محسوس ہوتا۔ اور ان قوموں پر اک رحم سا محسوس ہوتا جو ابھی آزادی کی جنگ لڑتے لڑتے اس منزل کو پانے کی جدوجہد میں تھیں اور جبر غلامی کے عفریت کو اپنا خون پلانے پر مجبور تھیں۔

بذات خود آزادی کسے اچھی نہیں لگتی، اک ننھی سی چڑیا کو پنجرے میں بند کر دیکھیے، وہ اپنے راگ الاپنے بھول جائے گی۔ حسرت سے نیلے آسمان کو دیکھتے اپنے پر پھیلائے گی، مگر پنجرے کی دیواروں سے ہی پھڑ پھڑا کر رہ جائے گی۔ اور اگر اسے سونے کے پنجرے میں بھی بند کر دیا جائے۔ تو اس کی آزادی کی قیمت کے لیے دنیا کی تمام دولت بھی بےکار ہو گی۔ بس اس پر اک ننھا سا احسان کر دیں، پنجرہ کھول دیجئے اور اسے آزادی کی پرواز دیجیے، وہ فورا یہ راگ الاپتی آسمان کی بلندیوں میں کھو جائے گی۔
پنچھی بنی اڑتی پھروں مست گگن میں
آج میں آزاد ہوں دنیا کے چمن میں

اقبال کا خواب جو نہ جانے کتنے لوگوں کی زندگی کی تعبیر بنا۔ اور قائد اعظم کی کوششوں سے منزل تک پہنچا۔ اور لاکھوں لوگوں کی عظمتوں کے ایثار سے پورا ہوا۔ تب پاک سرزمین نصیب ہوئی۔ انسان کی سب سے بڑی چاہ اپنے گھر کی ہوتی ہے۔ جب گھر مل جائے تو پھر اسے سجانے سنوارنے کی۔ گھر اپنا گھرپیارا گھر پاک وطن تو مل گیا تھا۔ جب یہ ملا تو سنگل سٹوری تھا، تریسٹھ سال گزر گئے اب تک تو اسے ٹرپل سٹوری بن جانا چاہیئے تھا مگر۔ ۔

لوگ ایکٹروں کو دیکھ کر خوش ہو لیتے ہیں پر والد صاحب نے اپنے ٹین ایج میں قائد اعظم کو لائیو دیکھا تھا کسی جلسہ گاہ میں تقریر کرتے۔ جس پر میں اور بھائی بھی اک فخرسا محسوس کرتے تھے کہ انھوں نے اتنی عظیم ہستی کو دیکھا ہوا ہے اور ہم ان سے بار بار قائد اعظم بارے پوچھا کرتے تھے۔ کہ وہ کیسے تھے اور کیسے دکھتے تھے؟ تب وہ بتایا کرتے تھے کہ قائد اعظم دیکھنے میں ایک کمزور، نحیف ہستی نظر آتے تھے مگر ان کی آواز اتنی بھر پور اور پرجوش ہوتی تھی کہ وہ اک ولولہ نظر آتا تھا ان کی تقریر میں۔
پھر اقبال کی یہ خوبصورت نظم بہت سننے میں آتی تھی اور سن سن کر زبانی یاد تھی۔
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
اور یہ نظم سن کرخود بخود اک شمع سی اندر روشن ہو جاتی تھی، جو اک اچھا انسان محب وطن اچھا شہری بننے کی ترغیب دیتی تھی۔ سکول میں جب اسمبلی اٹینڈ کرتے تودعا کے بعد روزانہ یہ پڑھتے،
پاک سر زمین شاد باد
کشور حسین شاد باد
اور روزانہ یہ دعا ہمیں یاد دہانی کراتی اپنے پاک وطن کی، اس کی خوبصورتی کی، اس کی عظمتوں کی، اور دل سے اک عجیب سا جذبہ اور کیفیت ابھرتی جو ہمارے ملک کی عظمت کو برقرار رکھنے کے لیے محب وطن بننے کی متقاضی ہوتی۔ اور پاک ترانہ تو ہمارے اندر ایسا رچ بس گیا تھا کہ صاف لگتا کہ مذہب کے بعد ہم نے اس کا احترام کرنا ہے۔ جہاں بھی بجتا تو فورا کھڑے ہو جاتے، رک جاتے۔ اور ترانے کے ادب کا نظارہ چند بار سینما میں بھی دیکھنے میں نظر آیا۔ فلم کے دوران بے شک لوگ ڈائلاگ بازی پر اونچی آوازے کس رہے ہوں۔ شور شرابا ہو رہا ہو۔ بچوں کی ریں پیں چل رہی ہو۔ لیکن ترانہ شروع ہوتے ہی سب منظم ہو جاتا۔ سب احتراما کھڑے ہو جاتے، لوگوں کو جیسے سانپ سونگھ جاتا اور بچوں کو بھی رونا بھول جاتا اور مزے کی بات پھر بھی احتیاطا سینما کے گیٹ تب تک نہ کھلتے جب تک ترانہ پورا نہ ہو جاتا۔ سمجھ لیں اک جذبہ داخلی بھی ہوتا جو منظم رکھتا مگر پھر خارجی انتظامات بھی ہوتے۔

مگر اب کیا ہوا؟ اب بھی وہی چاند ہے وہی تارے وہی سورج وہی نظارے۔ چودہ اگست آج بھی دھوم دھام سے منائی جاتی ہے۔ جگہ جگہ سجایا جاتا ہے ترانے بجتے ہیں، چھوٹے چھوٹے بچے تک پرچم کی جھنڈیاں لہرا رہے ہوتے ہیں۔ مگر وہ بات بنتی نظرنہیں آتی جو ہمیں یہ بتائے کہ ہاں ہم واقعی محب وطن ہیں۔ میرا خیال ہے اب زمانے میں نفسا نفسی کی چال چلتے دکھاوا جو آ گیا ہے۔ تو یہ چیزیں اب صرف ظاہری پیمانے سے ناپی جانے لگی ہیں۔ اور دلوں سے وہ جذبہ ختم ہو گیا ہے جو کبھی اک جوش اک ولولہ پیدا کرتا تھا۔ اور جس نے ہمیں آزادی جیسی نعمت دلائی تھی اور اپنے گھر کی فیلنگ دی تھی۔ لگتا ہے ہم اپنے مدار سے ہٹ گئے ہیں۔ راستہ بھٹک گئے ہیں۔ اور آگے مزید خوبصورت منزلوں کی بجائے مسائل کے کالے پہاڑ اور چٹانیں راستہ روکی کھڑی ہیں۔ تبھی تو دم گھٹنے لگا ہے۔ کاش اے کاش اب پھر کوئی اقبال کی طرح حسین خواب دیکھے، اور جناح کی طرح ہمارا بیڑہ پار لگا دے،اور ہم بھی چڑیا کی طرح آزادی کا گیت گا سکیں۔


**************

Sunday, July 11, 2010

جن پہ تکیہ تھا ۔۔۔ ایک آرٹیکل

یہ میرا ابتدائی آرٹیکل تھا جسے بہت سے مہربانوں نے پسند کیا تھا اور  یہ اردو پوائنٹ پر بھی پبلش ہوا تھا۔



Friday, July 9, 2010

ادیبوں کی حس مزاح



ادیبوں کی حس مزاح


دلی میں ایک بہت مشہور طوائف تھی ۔۔۔ جس کا نام " شیریں " تھا ۔ مگر اس کی ماں بہت بے ڈول اور بری شکل کی تھی ۔
ایک مجلس میں " شیریں " اپنی ماں کے ساتھ مجرے کے لیے آئی ۔ سرسید احمد خان ۔۔۔ بھی وہاں موجود تھے ۔۔۔ اور ۔۔۔ ان کے برابر ان کے ایک ایرانی دوست بیٹھے ہوئے تھے ۔
وہ شیریں کی ماں کو دیکھ کر کہنے لگے "مادرش بسیار تلخ است " اس پر سرسید نے فورا جواب دیا " گرچہ تلخ است ولیکن برشیریں دارد۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مرزاغالب صاحب کے خسرمرزا الہی بخش خان پیری مریدی بھی کرتے تھے ۔۔۔ اور ۔۔۔ اپنے سلسلے کے شجرہ کی ایک ایک کاپی اپنے مریدوں کو دیا کرتے تھے ۔ ایک دفعہ انھوں نے مرزا صاحب سے شجرہ نقل کرنے کے لئے کہا ۔۔۔ مرزا صاحب نے نقل تو کر دی ۔۔۔ مگر ۔۔۔ اس طرح کہ ایک نام لکھ دیا اور ایک نام چھوڑ دیا ۔۔۔ تیسرا پھر لکھ دیا ۔۔۔ اور ۔۔۔ چوتھا پھر حذف کر دیا ۔ان کے خسرصاحب یہ نقل دیکھ کر بہت ناراض ہوئے ۔۔۔ کہ ۔۔۔ یہ کیا غضب کیا ۔۔۔۔
مرزا صاحب بولے " حضرت ، آپ اس کا کچھ خیال نہ فرمائیے ۔ شجرہ دراصل خدا تک پہنچنے کا ایک زینہ ہے ، سو زینے کی ایک ایک سیڑھی ۔۔۔ اگر ۔۔۔ بیچ سے نکال دی جائے تو چنداں ہرج واقع نہیں ہوتا ۔ آدمی ذرا اچک اچک کے اوپر چڑھ سکتا ہے ۔ "
ان کے خسرصاحب یہ سن کر برافروختہ ہوئے اور انھوں نے نقل پھاڑ ڈالی ۔۔۔ اور ۔۔۔ پھر کبھی مرزا سے شجرہ نقل کرنے کی فرمائیش نہیں کی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک روز داغ دہلوی نماز پڑھ رہے تھے ۔۔۔ کہ ۔۔۔ ایک صاحب ان سے ملنے آئے اور انھیں نماز میں مشغول دیکھ کر لوٹ گئے ۔ اسی وقت داغ صاحب نے سلام پھیرا ۔۔۔ ملازم نے بتایا ۔۔ تو ۔۔ فرمانے لگے " دوڑ کر جا ابھی راستے میں ہوں گے "وہ بھاگا بھاگا گیا اور ان صاحب کو بلا لایا ۔ داغ نے ان سے پوچھا : آپ آ کر چلے کیوں گئے ۔ ؟ وہ کہنے لگے " آپ نماز پڑھ رہے تھے اس لئے میں چلا گیا ۔ "
داغ نے فورا جواب دیا " حضرت ، میں نماز پڑھ رہا تھا ۔ لاحول تو نہیں پڑھ رہا تھا جو آپ بھاگے ۔ "

۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ایک بار داغ دہلوی ۔۔۔ اجمیر گئے ۔ جب وہاں سے رخصت ہونے لگے ۔۔ تو ۔۔۔ ان کے شاگرد نواب عبداللہ خاں مطلب نے نے کہا
" استاد آپ جا رہے ہیں ۔ جاتے ہوئے کوئی نشانی تو دیتے جائیے ۔ "
یہ سن کر داغ نے بلا تامل کہا
داغ کیا کم ہے نشانی کا ، یہی یاد رہے


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


مولانا حالی کے پاس ان کے ایک ملنے والے غزل لکھ کر لائے ۔۔۔ اور ۔۔۔ برائے اصلاح پیش کی ۔
غزل میں کوئی بھی مصرع عیب سے خالی نہ تھا ۔ مولانا حالی نے تمام غزل پڑھنے کے بعد ۔۔۔ بے ساختہ فرمایا " بھئی غزل خوب ہے اس میں تو کہیں انگلی رکھنے کو بھی جگہ نہیں ۔ "

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اے۔۔۔ نیم باز آنکھوں سے از کائنات

ون اردو سائٹ پر مزاحیہ تحریر نگاری کا مقابلہ ابھی دو اڑھائی ماہ پہلے ہوا تھا۔ میں اس مقابلے کی میزبان تھی اور اس مزاحیہ تحریر نگاری مقابلے کے لیے میری یہ تحریر شامل تھی۔

بی۔۔۔ نیم باز آنکھوں سے از کائنات

سی۔۔ نیم باز آنکھوں سے از کائنات



Wednesday, July 7, 2010

فطرت اور مظاہر فطرت




دریا کو اپنی موج کی طغیانیوں سے کام
کشتی کسی کی پار ہو یا درمیاں رہے


پتہ نہیں کیوں تصویر دیکھ کر یہ شعر بے اختیار یاد آ گیا۔ فرق اتنا کہ یہاں آگ کا دریا ہے۔
دراصل ہم فطرت اور مظاہر فطرت کو اپنی مخصوص صورت حال، وقتی ضرورت اور موڈ کے مطابق دیکھتے ہیں۔

جیسے بارش میں محبوب یہ دعا مانگتا ہے۔" اے ابر کرم اتنا برس کہ وہ جا نہ سکیں "
لیکن قرض خواہ سے تنگ آیا قرض دار یوں دعا گو ہوتا ہے " اے ابر کرم اتنا برس کہ وہ آ نہ سکیں"


فطرت کی اپنی منطق ہے، لیکن ہم اسے اپنے تابع رکھنا چاہتے ہیں اور یہ غیر منطقی ہے۔
بارش، سردی، گرمی، آندھی ، طوفان، آتش فشاں کا پھوٹنا وغیرہ تو، یہ سب فطرت کے وقوع ہیں۔ بطور مثال، جغرافیائی عمل کے تحت بادل بنتے اور بارش ہوتی ہے، لیکن اس کا نیچے زمین پر کھیلے جانے والے میچ اور سٹیڈیم میں بھیگتے افراد سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ بس یہی عمل یہاں رواں ہے۔

ہمارا دل بھی ایک آتش فشاں ہی تو ہے، جس کے اندر ناپسندیدہ واقعات، باتیں، جذبات حالات کی جبری کشمکش سے نبرد آزما ہونے والی قوت جیسے عوامل جمع ہوتے رہتے ہیں، اور پھر وہ لاوے کی طرح اندر ہی اندر پکتے رہتے ہیں اور موقع پاتے ہی یہ آتش فشاں پھوٹ نکلتا ہے اور پھر اسکی زد میں آس پاس کا ماحول اور کتنے ہی لوگ لپیٹ میں آ جاتے ہیں۔