Thursday 11 August 2011

شام کتنی اداس ہے


شام کتنی اداس ہے
 
کتنی اکیلی
تنہا تنہا
ہوا بھی خاموش
گل بھی ساکت
پنچھی بھی جھنڈ کے جھنڈ
تھکے تھکے سے اپنے آشیانے کو جا رہے ہیں
مسافر کو بھی تلاش ہے رات سے پہلے اک پڑاؤ کی
افق کے کناروں سے نارنجی چادر اس سماں کو لپیٹ رہی ہے
اک اداسی سی ہر سو پھیل رہی ہے
کچھ دیر
بس کچھ ہی دیر
ابھی وہ آتی ہو گی
خراماں خراماں
جس کے انتظار میں سب باادب ایستادہ ہیں
جو آتے ہی اپنی کالی کالی زلفیں کھولے گی
اور بازو کھولے گھومے گی
گھومے گی
اور پوری کائنات کو اپنی بانہوں میں لے گی
اور شام کی یہ اداسی
اسکے ستاروں ٹکے کالے آنچل میں منہ چھپا لے گی

کائنات بشیر
********

0 comments: