شام کتنی اداس ہے
کتنی اکیلی
تنہا تنہا
ہوا بھی خاموش
گل بھی ساکت
پنچھی بھی جھنڈ کے جھنڈ
تھکے تھکے سے اپنے آشیانے کو جا رہے ہیں
مسافر کو بھی تلاش ہے رات سے پہلے اک پڑاؤ کی
افق کے کناروں سے نارنجی چادر اس سماں کو لپیٹ رہی ہے
اک اداسی سی ہر سو پھیل رہی ہے
کچھ دیر
بس کچھ ہی دیر
ابھی وہ آتی ہو گی
خراماں خراماں
جس کے انتظار میں سب باادب ایستادہ ہیں
جو آتے ہی اپنی کالی کالی زلفیں کھولے گی
اور بازو کھولے گھومے گی
گھومے گی
اور پوری کائنات کو اپنی بانہوں میں لے گی
اور شام کی یہ اداسی
اسکے ستاروں ٹکے کالے آنچل میں منہ چھپا لے گی
کائنات بشیر
********
0 comments:
Post a Comment